05-26-2010, 01:29 PM
یہ رسالہ میں نے قریبا دو سال پہلے قادیانیوں کو دعوت اسلام دینے کے غرض سے لکھا تھا اس رسالے میں میرے مزاج کے برخلاف انتہائی نرم رویہ میں بات کی گئی ہے جو یقینا کچھ لوگوں کیلئے ہوسکتا ہے کہ اچھنبے کی بات بھی ہو کہ قادیانیوں کیلئے اس قسم کا لہجہ کیوں
مگر میں نے یہ انتہائی خلوص نیت سے لکھا تھا میرے بس میں ہوتا اور مجھے یقین ہوتا کہ اگر میرے جگر کے خون کے بدلے یہ لوگ اسلام لے آئیں گے تو میں یقینا سیاہی کی جگہ یہی استعمال کرتا
اس رسالے کو لکھتے وقت جو تڑپ فقیر کے دل میں تھی باوجود کوشش کے دوبارہ اس قسم کی تڑپ اور رقیت دل کو نصیب نہ ہوسکے جو اس رسالے کے اندازسے بھی واضح ہے
اللہ پاس اس کو قبول فرمائے ریاکاری سے بچائے اور دین حق کی سربلندی یلئے تامرگ کام لیتا رہے
آمین
مگر میں نے یہ انتہائی خلوص نیت سے لکھا تھا میرے بس میں ہوتا اور مجھے یقین ہوتا کہ اگر میرے جگر کے خون کے بدلے یہ لوگ اسلام لے آئیں گے تو میں یقینا سیاہی کی جگہ یہی استعمال کرتا
اس رسالے کو لکھتے وقت جو تڑپ فقیر کے دل میں تھی باوجود کوشش کے دوبارہ اس قسم کی تڑپ اور رقیت دل کو نصیب نہ ہوسکے جو اس رسالے کے اندازسے بھی واضح ہے
اللہ پاس اس کو قبول فرمائے ریاکاری سے بچائے اور دین حق کی سربلندی یلئے تامرگ کام لیتا رہے
آمین